بجبر و اکراہ

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - بے دلی سے، مرضی کے خلاف۔ "مسلمان مجبور ہیں کہ اس موت کو برضا و رغبت یا بجبر و اکراہ قبول کریں۔"      ( ١٩٢٠ء، مضامین شرر،١، ١٦٦:٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'جبر' اور حاصل مصدر 'اکراہ' کے درمیان حرف عطف واؤ آنے سے مرکب عطفی 'جبر و اکراہ' بنا اور پھر فارسی حرف جار 'ب' بطور سابقہ لگنے سے 'بجبر و اکراہ' مرکب بنا اردو میں بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٩٢٠ء میں "مضامین شرر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے دلی سے، مرضی کے خلاف۔ "مسلمان مجبور ہیں کہ اس موت کو برضا و رغبت یا بجبر و اکراہ قبول کریں۔"      ( ١٩٢٠ء، مضامین شرر،١، ١٦٦:٣ )